کامیابی کے لیے کمر باندھ لیں

عام طور پر سکولوں میں طلباء کو نچلی سطح کی سوچ کی صلاحیتوں جیسے یادداشت کے معیار پر جانچا جاتا ہے۔کثیر الانتخاب سوالات ، مختصر جوابات اور ایک دوسرے سے مناسبت کے سوالات ، ابھی بھیجائزے کے اہم طریقے تصور کیے جاتے ہیں۔ہماری نظر میں اسنظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ان مہارتوں کا بھی جائزہ لیا جائے جو طلبا ءکوزندگی میں کامیاب ہونے کے لیے درکار ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ تعلیم کا رخ بدلاجائے۔ اب ایسے ملازمین کی ضرورت بہت کم محسوس کی جاتی ہے جوفرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت پر حاضری دیں اور لگی بندھی ہدایات پر عمل کرتے رہیں۔ اس کی بجائے ایسے افراد کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے جو خود سے کام کرنے والے ہوں، تیزی سے اپنے آپ کو ادارے اور حالات کے مطابق ڈھال سکتے ہوں،سیکھ سکتے ہوں ، تنقیدی سوچ رکھتے ہوں، گفت و شنید کر سکتے ہوں اور جدت طرازی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ طلباء کی اکثریت آئندہ ایسی ملازمتیں کرے گی جو ابھی موجودہی نہیں ہیں۔ تو ہم انہیں اس کے لیےکس طرح تیار کریں گے؟ ہمیں طلبا ءکو ان مہارتوں کی نشوونما کرنے میں مدد فراہم کرنی ہو گی جو ان کومستقبل کے غیر یقینی حالات میں کامیابی کا راستہ دکھا سکیں۔ذیل میں ہم دیکھیں گے کہ وہ کون سی مہارتیں ہیں جنھیں کامیابی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے:

1۔حالات کے مطابق ڈھل جانے کی سوچ

آج کے ڈیجیٹل دور میں چیزیں نہایت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ جب تک ملازمین جدید ترین سافٹ وئیریا پروگرام سیکھتے ہیں، تب تک اس سے بہتر ورژن آ چکا ہوتا ہے۔ مستقبل کے ملازمین کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتے رہنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ تیزی سے اور مؤثر طریقے سے نئی چیزیں سیکھنے کے قابل ہوں۔ ہمیں اپنے طالب علموں کواب یہ سکھانا ہے کہ کیسے نئی چیزیں سیکھتے رہنا ہے۔

2۔ابلاغ کی مہارت

بات چیت کرنے اور ابلاغ کی صلاحیت پر ہمیشہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں ہمارے پاس ویڈیو کانفرنسنگ سے لے کر سوشل میڈیا تک بات چیت کرنے کے مختلف طریقے دستیاب ہیں۔ مستقبل کے ملازمین کو اپنی ٹیم کے اندر موجود لوگوں کے ساتھ ساتھ ٹیم اور تنظیم سے باہر کے لوگوں سے بھی بات چیت کرنے کی مہارت پیدا کرنا ہو گی۔

3۔تعاون کی مہارت

زیادہ تر کلاس رومز میں ٹیم ورک اور تعاون کی بجائے مقابلےاور آزادی کی فضا کو فروغ دیا جاتا ہے۔ مستقبل کے آجروں کوایسے لوگوں کی ضرورت ہوگی جو تیزی سے باہمی تعاون کے کلچر میں ڈھل جائیں۔ انہیں تنظیم کے اندر اور باہرکئی قسم کی نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔

4۔تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی مہارت

اب محض ہدایات پر عمل کرنے والے ملازمین کی مانگ کم ہوتی جارہی ہے، جب کہ تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پر زیادہ زور دیا جارہا ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں آجروں کو ایسے ملازمین کی ضرورت ہوتی ہے جو مسائل کو حل کرسکیں ، نئے آئیڈیاز پیش کرسکیں اور تنظیم کو بہتر بنانے میں مدد کرسکیں۔

5۔تنظیم ذات کی مہارت

اس میں کسی اور کی طرف دیکھنے کی بجائے آزادانہ طور پر منصوبہ بندی ، کاموں کو منظم کرنے ، تشکیل دینے اور عملدرآمد کرنے کی اہلیت شامل ہے۔

6۔دریافت کرنے کی مہارت

اکثر تعلیمی جائزوں میں طلباء سے جوابات پوچھے جاتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی ہم اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کس حد تک سوالات پوچھ سکتے ہیں۔ تاہم بہت اچھے سوالات پوچھنے کی صلاحیت ایک اہم مہارت ہے جس کی ایسےماحول میں اشد ضرورت ہے جہاں مسلسل جدت طرازی اور اختراعات سے کام لیا جاتا ہے۔

7۔ٹیکنالوجی کی مہارت

تقریبا ہر کام میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی ہر جگہ موجود ہے۔ تاہم سکولوں میں اس تبدیلی کو اپنانے میں سست روی کا مظاہرہ کیاجا رہا ہے۔ شاذ و نادر ہی طلباء کو مؤثر طریقے سے ٹیکنالوجی سکھانے پر زور دیا جاتا ہے۔ اس پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

8۔تخلیق اور جدت طرازی کی مہارت

اس مہارت کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے۔ اس صلاحیت کا اچھے سوالات پوچھنے اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے گہرا تعلق ہے۔ آجروں کو مسائل کے حل کے لئے تخلیقیذہن اور نئے نئے حل تلاش کرنے والے ملازمین کی زیادہضرورت ہو گی۔

9۔شخصی مہارتیں

سکول شاید ہی طلباء کوشخصی مہارتیں سکھانے میں وقت صرف کرتے ہیں ، جیسے ٹائم مینجمنٹ کی مہارت ، تنظیمی صلاحیتیں ، کسی سے بات کرتے وقت اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی صلاحیتیاپر جوش مصافحہ کرنے کی صلاحیت۔ اس طرح کی مہارتوں کو سکول کے نصاب میں خصوصی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

10۔ہمدردی اور دوسروں کی نظر سے چیزوں کو دیکھنا

اگرچہ یہ مہارت ہمیشہ سے اہم رہی ہے ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے۔ ہمارے طلبا ءمیں یہ صلاحیتہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کی نظر سے چیزوں کو دیکھ سکیں ، ان کے احساسات کو سمجھیں اور ان کے مسائل حل کرنے میںان کی مدد کریں۔

سکولوں کو کیا کرنا چاہیے؟

ہمارے طلباء کے لئے ان بنیادی مہارتوں کا سیکھنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔اس کے لیے ہمیں طلباء کو پروجیکٹس میں شامل کرکے سیکھی ہوئی چیزوں کا اطلاق سکھانا ہو گا۔ ہمیں مستقبل میں کامیابی کے لیے ان میں اعلیٰ درجے کی سوچنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کی حیثیت سے ہمیں محض نچلی سطح کی مہارتوں ، جیسےرٹے اور یاد داشت پر انحصار کو ختم کرنا ہو گا ، اور طلبہ کو اعلیٰ درجے کی مہارتوں جیسےاطلاق ، تجزیہ ، تشخیص ، اور تخلیق سے لیس کرنا ہو گا۔صرف اور صرف اسی صورت میں ہم طلباءمیں یہ مہارتیں پیدا کرنے میںکامیاب ہوں گے۔