آپ کے پڑھانے کا انداز کیا ہے؟

ہر استاد کے پڑھانے کا اپنا ہی انداز ہوتا ہے۔ چونکہ روایتی تدریسی اسلوب وقت کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہیں ، لہٰذا زیادہ تر اساتذہ اپنے طلباء کی سیکھنے کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر پڑھانے کا انداز اختیا کرتے ہیں۔

زیادہ تر اساتذہ تدریس کے کچھ بنیادی اسلوب اختیا کرتے ہیں جن کا ذکر ہم ذیل میں کر رہے ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ آپ کے پڑھانے کا انداز کیا ہے؟

1۔لیکچر اسٹائل

اس سٹائل میں استاد ہی تدریس کا محور ہوتا ہے اور کثرت سے لیکچریایکطرفہ پریزنٹیشن کا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ طلبہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نوٹس لیں گے یااز خود معلومات جذب کریں گے۔

خوبیاں:یہ انداز اعلیٰ تعلیمکی کلاسز اور طلباء کے بڑے گروپوں کے ساتھ مثلاً آڈیٹوریم میں تدریس کے لئے موزوں ہے۔ لیکچرکا طریقہ تاریخ جیسے مضامین کے لئے مناسب ہے جس میں اہم حقائق ، تاریخوں ، ناموں ، وغیرہ کو یاد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

خامیاں:اس سٹائل پر بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس میں اساتذہ اور طلباء کے مابین دو طرفہ ابلاغ نہیں ہوتا۔ نیزبعض بچے لیکچر کے دوران میں پوری طرح توجہ مبذول نہیں رکھ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طریقہ بڑے طلباء کے لئے زیادہ بہتر ہے۔

2۔مظاہراتی اسٹائل                                 

اس طریقے میں بھی تھوڑے سے فرق کے ساتھ طلباء کو معلومات سے متعلقہ چیزیں دکھا کر دراصل لیکچر کا انداز ہی اپنایا جاتا ہے۔ یہاں لیکچر کے ساتھ ساتھ اسباق میں ملٹی میڈیا پریزنٹیشنز ، سرگرمیاں اور کچھ چیزوں کا مظاہرہبھی شامل ہوتا ہے۔ریاضی اور سائنس وغیرہ میں اس طریقے سے پڑھایا جا سکتا ہے۔

خوبیاں:اس اسٹائل میں اساتذہ کو تدریس میں کچھ نئی چیزیں شامل کرنے کا موقع ملتا ہے، مثلاًملٹی میڈیا پریزنٹیشنزیا کچھ اشیاء کا مظاہرہ ۔

خامیاں:اگرچہ یہ اسٹائل ریاضی ، موسیقی ، جسمانی تعلیم ، یا آرٹس اور دستکاری کی تعلیم کے لئے مناسب ہے ، لیکن اس طریقے میں بڑے کلاس رومز میں طلباء کی انفرادی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہے۔

3۔سہولت کار کا اسٹائل

سہولت کارطلباء میں خود سیکھنےکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہ طالب علموںمیں تنقیدی سوچکی مہارت کو فروغ دیتے ہیں اور اس طرح معلومات مہیا کرتے ہیں جس سے طلباء کو خود شناسی کی منزلیں طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

خوبیاں:اس انداز سے طلبا ءکو سوال پوچھنے کی تربیت ملتی ہے اورتحقیق کے ذریعہ جوابات اور حل تلاش کرنے کی مہارت پیداہوتی ہے۔ یہ طریقہ سائنس جیسے مضامین کی تدریس کے لئے بہت موزوں ہے۔

خامیاں:اس انداز میں ضروری ہے کہ اساتذہ طلباء سے بات چیت کریں اورمحض رٹے کے ذریعہ حقائق بیان کرنے اور علم کی جانچ کی بجائے ان کو خود دریافتکرنے کی ترغیب دیں۔ لہٰذاطلباء کی کارکردگی کی ٹھوس انداز میں پیمائش قدرے مشکل ہے۔

4۔تفویض کرنے کا اسٹائل                                 

تفویض کرنے کا اسٹائل اس مواد کے لیے موزوں ہے جس میں لیبارٹری کی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً حیاتیات یا کیمسٹری۔یہ اندازایسے مضامینکی تدریس میں بھی مددگار ہوتا ہے جس میں ساتھیوں کو ایک دوسرے کی رائے، بحث و تمحیص اور تخلیقی تحریرکی ضرورت پیش آتی ہے۔

خوبیاں:استاد کی رہنمائی میں دریافتکے عمل اورتحقیق کے ذریعے سیکھنے میں استاد کو ایک مبصر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو طلباءمیں مشترکہ مقاصد کی طرف متحد ہو کر کام کرنے کا شوق پیدا کرتی ہے۔

خامیاں:اسے تعلیم کا ایک جدید انداز سمجھا جاتا ہے۔بعض اوقات اس اسٹائل پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس میں اساتذہ کا اختیاربہت محدود ہو جاتا ہے۔ ایک تفویض کنندہ کی حیثیت سے ، استاد روایتی با اختیار شخصیت کی بجائے زیادہ تر مشیر کی حیثیت کام کرتا ہے۔

5۔ملا جلا (ہائبرڈ) اسٹائل

اس انداز میں پڑھانے کے لئے اساتذہ ایک مربوط طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے اپنی شخصیت، طلبہ کی ضروریات اور نصاب سےہم آہنگ مناسب طریقوںکی مدد سے سبق میں طلباء کی دلچسپی پیدا کرتے ہیں۔

خوبیاں:اس انداز میں پڑھانے سے تقریباً تمام ہی طلباء سبق میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اساتذہ کو طلباء کی ضروریات اورمضمون کی مناسبت سے اپنیتدریسی حکمت عملی طے کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

خامیاں:ہائبرڈ اسٹائل میں استاد کو تمام طلبہ کے لیے بہت ساری چیزیںکرنے کی کوشش کرنا ہوتی ہے۔ اساتذہ کو ہر طالب علم تک پہنچنے کے لیے بہت باریک بینی سے کام لینا ہوتا ہے، جس کے لیے بہت مہارت کی ضرورت ہے۔

آپ کے لیے کون سا تدریسی اسٹائل موزوں ہے؟

چاہے آپ ابتدائی جماعتوں کے اساتذہ ہیں جو دوران تربیت سیکھی ہوئی تمام تدریسی تکنیکوں کا کلاس روم میں اطلاق کرنا چاہتے ہیں ، یاایک تجربہ کار استاد ہیں جومختلف حکمت عملیوں اور سیکھنے کےنئے طریقوں کو آزمانا چاہتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایک اسٹائل سب طلباء کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ اگرچہ تدریس کے اسٹائلز کو پانچ گروپوں میں رکھا گیا ہے ، لیکنموجودہ تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہائبرڈ اسٹائل ایک ایسا انداز ہے جو اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء کی ضروریات کو بھی بڑی حد تک پورا کرتا ہے، اور اس میں اساتذہ کو حسب ضرورت بہت سے طریقے اور سرگرمیاں اختیار کرنے کا موقع ملتا ہے۔