جمیل احمد
November 16, 2020

آپ کے بچے میں خود اعتمادی کیسے پیدا ہو؟

خود اعتمادی بچوں کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ خود اعتمادی نہ صرف تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے میں بچے کی مدد کرتی ہے بلکہ ان میں معاشرتی صلاحیتوں اور دیرپا تعلقات استوار کرنےکی بہتر صلاحیت بھی پیدا کرتی ہے۔

ساتھیوں اور اساتذہ کے ساتھ تعلقات کا فائدہ تبھی ہوتا ہےجب بچے کافی حد تک پر اعتماد ہوں۔ پر اعتماد بچے غلطیوں ، مایوسی ، اور ناکامی کے ساتھ ساتھ چیلنجز سے بہتر طور پر نپٹ سکتے ہیں۔وہ زیادہ اچھے طریقے سے اپنے کام سر انجام دے سکتے ہیں اور اپنے مقاصد طے کرنے لیے بھی بہتر طور پر تیارہوتے ہیں۔ خود اعتمادی دراصل زندگی بھر کی ضرورت ہے جسے اساتذہ اور والدین آسانی سے بچے میں پیدا کر سکتے ہیں، لیکن ہماری عدم توجہی سے اسے بہت جلدی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ذیل میں ہم بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے چند طریقوں کا ذکر کریں گے:

1۔بچوں کو کار آمد فیڈ بیک دیں.

بچوں کو ایسا فیڈ بیک دینے سے گریز کریں جو محض تعریف پر مبنی ہو۔ "مجھے آپ پر فخر ہے" اور "آپ ریاضی میں واقعی اچھے ہیں" جیسےجملے نہ صرف یہ کہ بچوں کے لیے مددگار نہیں ہوتے ، بلکہ وہ بچوں کو صرف تعریف کی بنیاد پر اپنی شخصیت کےبارے میں سوچنے کا عادی بنا سکتے ہیں۔ اس کی بجائے ان کی مخصوص کامیابیوں کی تعریف کریں اور ان کوششوں اور حکمت عملیوںکا ذکر کریں جو انہوں نے اس دوران میں کی ہیں۔ اس طرح طلباءآپ کی رائے کو مفیدسمجھیں گےاور اس سے تحریک حاصل کریں گے۔

طالب علموں کو یہ بتانے کے علاوہ کہ آپ ان کے کام کو توجہ سے دیکھ رہے ہیں ، محض فیڈ بیک سے باہر نکل کر انہیں اپنے کام پر تبصرہ کرنے کا موقع بھی دیں، مثلاً:

"میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنی تحریر کو منظم کرنے کے لئےاسے پیراگرافوں میں تقسیم کیا ،جو ایک عمدہ حکمت عملی ہے۔"

"میں کہہ سکتی ہوں کہ اب آپ ریاضی کے سوال حل کرنے میں کم غلطیاں کررہے ہیں۔"

"آپ نے اپنی لکھائی واقعی بہتر کی ہے، مجھے معلوم ہے کہ آپ اس پر بہت محنت کر رہے ہیں۔"

"میں نے نوٹ کیا ہے کہ آپ نے ایک غلطی کی تھی لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری، اس کی بجائے آپ نے اسے ٹھیک کیا تھا۔ اچھے مصنف، ریاضی دان اور سائنس دان ایسا ہی کرتے ہیں۔"

با مقصدفیڈ بیک کے ذریعے ، آپ بچوں کی خود اعتمادی پر مثبت اثر ڈالتے ہیں اور تعلیمی اہداف کے حصول کے لیےبچے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

2۔مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کریں.

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ کم خود اعتمادی کے حامل بچے اور بالغ دونوں ہی منفیپہلوؤں پر توجہ دیتے ہیں؟وہ لوگوں کوزیادہ تر یہ بتاتے ہیں کہ وہ کیا نہیں کرسکتے، اپنی خامیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اپنی غلطیوں پر ہی سوچتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہےاور انہیں باور کروانا چاہیے کہ وہ اپنے بارے میں اس قدر منفی انداز میں نہ سوچیں۔

اس سلسلے میں خود مثال بن کراپنے طلباء کی رہنمائی کریں اور انہیں اپنے آپ کو معاف کرنا سکھائیں۔انہیں بتائیں کہ اپنی غلطیوں پر ضرور توجہ دیں لیکن اپنی خوبیوں پر بھی سوچیں۔ آہستہ آہستہ وہ دیکھیں گے کہ کمزوریوں کی بجائے خوبیوں پر توجہ دینے سے ان کی شخصیت کی توقیر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کبھی بھی منفی رائے نہیں دے سکتے ، اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ زیادہ تر تعریف سے کام لیں اور کم ہی منفی آراء دیں۔

3۔تعمیری تنقید کریں.

خود اعتمادی کی کمی کا شکار بچے عام طور پر تنقیدبرداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ، چاہے آپ ان کی مدد ہی کیوں نہ کرنا چاہتے ہوں۔ لہٰذا اس معاملے میں بہت محتاط رہیں۔ ہمیشہیاد رکھیں کہ خود اعتمادیکا اس بات سے گہرا تعلق ہے کہ بچے خود کو کتنا تعریف، قدر، قبولیت اور محبت کے قابل سمجھتے ہیں۔ آپ اس طرح کا رویہ رکھیں کہ بچے کے اندر اپنی بہتر عزت نفس کا تصور قائم رہے، اور وہ خود کو اس طرح دیکھیں جیسے آپ انہیں دیکھتے ہیں۔

اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ والدین اور اساتذہ کی حیثیت سے ، آپ بچے کی خود اعتمادی اور عزت نفس کی نشوونما میں سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ آسانی سے کسی طالب علم کی عزت نفس بنا سکتے ہیں یا اسے ٹھیس پہنچا سکتے ہیں، لہٰذا جہاں تک ممکن ہو تعمیری تنقید کریں، اور کوشش کریں کہ آپ کی بات کے زیادہ سے زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوں۔

4۔مثبت خصلتوں کی نشاندہی کریں.

کچھ طلباء کو ایسی چیزوں کے بارے میں بات کرنے کا موقع دینا چاہیے جو وہ اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں یا جن کے بارے میں وہ اچھا محسوس کرتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ خود اعتمادی کی کمی کا شکار کتنےہی بچوں کو اس کام میں مشکل پیش آتی ہے۔لہٰذااس کام میں مدد دینے کے لیے بچوں کو کچھ نکات فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔تعلیمی سال کے شروع میں اس طرح کی سرگرمی تمام طلباء کے لئے ایک بہترین مشق ثابت ہو گی جس سے انہیں بہت فائدہ ہو گا۔

5۔حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کریں.

اپنے طلباء یا بچوں کے لئے حقیقت پسندانہ توقعات کا تعین کرنا انھیں کامیابی کے لئے تیار کرنے میں بہت اہم ہے۔ اس کے لیے آپ کو ان کی خوبیوں اور خامیوں کا علم ہونا چاہیے۔

ایک بار جب آپ کو یہ پتہ چل جائے کہ ایک طالب علم کسی کی مدد کے بغیر کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا تو ، ان کے لیے ایسے کام اور سرگرمیاں ڈیزائن کریں جو اتنی مشکل تو نہ ہوں جنہیں وہ نہیں کرسکتے ہیں لیکن اتنی ضرور ہوں کہ مکمل ہونے پرانہیں کامیابی کا احساس ہو۔ .

6۔انہیں غلطیوں سے سیکھنے دیں

غلطی سے کیا کھویا کی بجائے غلطی سے کیا سیکھا پر توجہ دے کرناکامیوں کو مثبت مواقع میں بدلنے کی کوشش کریں۔ غلطیوں سے سیکھنے کی مثال دراصل آپ کےپاس آپ اپنے طلبا ءکی رہنمائی کا ایک اور بڑا موقع ہے۔ انہیں احساس دلائیں کہ سب غلطیاں کرتے ہیں ، پھر ایک رول ماڈل کے طور پرانہیںدکھائیں کہ کس طرح آپ صبر، امیداور حوصلے کے ساتھ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔اس طرح وہ غلطیوں کو سیکھنے کے مواقع کی حیثیت سے بھی دیکھنا شروع کردیں گے۔