جمیل احمد
November 16, 2020

بچوں کی مؤثر پرورش کے لیے چند تجاویز

بچوں کی پرورش کرنا دنیا کے سب سے مشکل لیکن سرشار کر دینے والے کاموں میں سے ایک ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے کاموں کے برعکس، اس کے لیے کم ہی لوگ تیاری کرتے ہیں۔یہاں ہم بچوں کی پرورش کے نو اقدامات کا ذکر کریں گے جو والدین کی حیثیت سے بچوں کی بھرپور پرورش میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں:

1. اپنے بچے میں خود اعتمادی کو فروغ دیجیے

جب بچے اپنے والدین کی نظروں سے خود کو دیکھتے ہیں تو ان میں اپنی شخصیت کا احساس ابھرنا شروع ہو جاتا ہے۔بچہ آپ کی آواز ، آپ کی بدن بولی اور آپ کا ہر تأثراپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ والدین کی حیثیت سے آپ کے الفاظ اور افعال ان کی خود اعتمادی کو سب سے زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

ان کی کامیابیوں کی تعریف کرنا ، خواہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہوں ، ان میں اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے۔ بچوں کو آزادانہ طور پرکام کرنے دینے سے ان میں قابلیت کا احساس پیدا ہو گا اور ان میں ایک مثبت توانائی سرایت کر جائے گی ۔ اس کے برعکس ، ان کی تحقیریا کسیدوسرے بچے کے ساتھ غیر مناسب انداز میں موازنہ کرنے سے وہ خود کو ناکارہ فرد کی حیثیت سے دیکھنا شروع کر دیں گے

بچوں کے ساتھ معنی خیز الفاظ استعمال کرنےیا الفاظ کو نشترکی طرح استعمال کرنے سے گریز کریں۔ "یہ کیا بیوقوفی ہے؟" یا "تم اپنے چھوٹے بھائی سے بھی زیادہگئے گزرے ہو!"جیسے تبصرے انہیں جسمانیاذیت کی طرح ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اپنے الفاظ کا بہت احتیاط سے انتخاب کریں اوربچوں کے ساتھ ہمدردیکا رویہ اختیار کریں۔ انہیں بتائیں کہ ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے اور یقین دلائیں کہ کبھی کبھی ان کا طرز عمل ٹھیک نہ ہونے کے باوجود آپ ان سے پیار کرتے ہیں۔

2. انہیں احساس دلائیں کہ آپ نے انہیں کوئی اچھا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ دن میں کتنی بار آپ اپنے بچوں کے ساتھ منفیرویے کا اظہار کرتے ہیں؟ہو سکتا ہے آپ تعریف سے کہیں زیادہ انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہوں۔ سوچیں، اگر آپ کا باس روزانہ اسی طرح آپ سے اتنا منفیبرتاؤ کرے ، چاہے اس کی نیت اچھی ہی کیوں نہ ہو، تو آپ کیسا محسوس کریں گے؟

زیادہبہتر ہو گا کہ آپ بچوں کو کوئی اچھا کام کرتے ہوئے "دیکھیں" مثلاً: "زبردست! آپ نے کسی کے کہے بغیر اپنا بستر تہہ کر دیا!" یا "میں آپ کو اپنیچھوٹی بہن کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا ،آپ نے بہت صبر سے کام لیا!" اس طرح کے تبصرے بار بار ڈانٹ پلانے کے مقابلے میں اچھے رویوں کی تشکیل میں زیادہ مددگار ثابت ہوں گے۔

روزانہ ان کی تعریف کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کریں۔ان کی کھل کر حوصلہ افزائی کریں۔ آپ کی محبت ، پیار اور تعریف حیران کن طریقے سے ان کے لیے انعام ثابت ہو گی۔جلد ہی آپ دیکھیں گے کہ بچوں میں وہی رویے پروان چڑھ رہے ہیں جنہیں آپ دیکھنے کے متمنی ہیں۔

3. حدود طے کریں اور نظم و ضبط میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کریں

نظم و ضبط ہر گھر کے لیے ضروری ہے۔ اس کا مقصد بچوں کو قابل قبول رویوں کا انتخاب کرنا اور ضبط نفس سکھانا ہے۔ گھر کے قوانینطے کرنے سے بچوں کو آپ کی توقعات کو سمجھنے اور خود پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ جب تک ہوم ورک مکمل نہ ہوجائے تب تک کوئی ٹی وی نہیں دیکھے گا ، یا کسی کو مارنے ، برے نام سے پکارنے یا تکلیف دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

آپ کو ایک نظام بھی بنانا ہو گا۔مثلاً بچوں کو بتائیں کہ کسی نا قابل قبول رویے پر ایک وارننگ کے بعداس کے نتائج کے لیے بھی تیار رہیں۔یہ نتائج "ٹائم آؤٹ" یاکسی استحقاق سے محروم ہونے کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔ والدین عموماً ایک غلطی کرتے ہیں کہ وارننگ کے بعد نتائج کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیتے۔ اس طرح سے بچوں کو نظم و ضبط کا پابند نہیں بنایا جا سکتا کہ ایک دن ہم کوئی بات کریں اور دوسرے دن اسے نظر انداز کر دیں۔اپنی کہی ہوئی باتوں پر مستقل مزاجی کا مظاہرہ ہی ان میں مطلوبہ عادات پیدا کرے گا۔

4. اپنے بچوں کے لئے وقت رکھیں

آج کے دور میں بہت سے والدین ایسے ہیں جو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر اکٹھے کھانا کھانے کے لیے بھی مشکل سے وقت نکال پاتے ہیں۔لیکن شاید بچوں کے لیے سب سے پسندیدہ لمحات ہی یہی ہوتے ہیں۔کیوں نہ صبح دس منٹ پہلے اٹھ کر بچوں کے ساتھ ناشتہ کر لیا جائے یارات کو تھوڑا سا وقت نکال کر بچوں کے ساتھ باہر ٹہلنے نکل جایا کریں۔جن بچوں کو اپنے والدین سے توجہ نہیں ملتی وہ بعض اوقات اس لیے بھی بد تمیزی کرتے ہیں کہ شاید اس طرح انہیں توجہ حاصل ہو جائے۔

بہت سے والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے اچھے نتائج ملتے ہیں ۔کم از کم ہفتے میں ایک بار بچوں کے ساتھ "خصوصی شام" منائیں اور بچوں کے ساتھ مل کر ہی اس کا پروگرام ترتیب دیں۔ان سے انس بڑھانے کے دوسرے طریقے بھی تلاش کریں، مثلاً اپنے بچے کے لنچ باکس میں ایکپھول یا کوئی اور خاص چیز رکھ دیں۔

بظاہر لڑکپن سے جوانی کی دہلیز تک پہنچنے والے افراد کو چھوٹے بچوں کے مقابلے میں اپنے والدین کی طرف سے کم توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ اس عرصے میں والدین اور بچوں کے اکٹھے بیٹھنے کے مواقع نسبتاً کم ہو جاتے ہیں ، لہٰذا جب انہیں ضرورت ہو، والدین کو ان کے ساتھ بیٹھنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔لڑکپن کے عرصے میں ان کے ساتھ باہر کی دنیا، مثلاً کھیلوں اور دیگر پروگراموں میںشریک ہونا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے ۔اس طرح آپ کو اپنے بچے اور اس کے دوستوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنےمیں مدد ملتی ہے۔

5. ایک اچھا رول ماڈل بنیں

چھوٹے بچے اپنے والدین کو دیکھ کر عمل کرنا سیکھتے ہیں۔ وہ جتنے چھوٹے ہوتے ہیں ، اتناہی آپ کے افعال سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔ آپ بچے کے سامنے کچھ بھی کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ آپ کی طرح ناراضگی کا اظہار کرے؟ اچھی طرح جان لیں کہ آپ مسلسل اپنے بچے کی نظروں میں ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ عام طور پرلڑائی کرنے والے بچوں کے گھر میںکہیں نہ کہیں جارحیت کا رول ماڈل موجود ہوتا ہے۔

آپ اپنے بچوں میں جس خصلت کو دیکھنا چاہتے ہیں،خواہ احترام ہو یا دوستانہ پن ، دیانت داری اور احسان ہو یا رواداری،خود ان کا نمونہ بنیں۔ بے لوث طرز عمل کا مظاہرہ کریں اور بدلے کی توقع کیے بغیر دوسرے لوگوں کے لئے کام کریں۔ شکریہ ادا کریں اور دوسروں کے اچھے کام پر ان کی تعریفکریں۔ سب سے بڑھ کر ، اپنے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں،جس کی آپ دوسرے لوگوں سےاپنے لیے توقع کرتے ہیں۔

6. ابلاغ کو ترجیح دیں

بچے ہر کام صرف اس وجہ سے نہیں کریں گے کہ آپ نے "کہہ" دیا تھا۔ وہ کاموں کی وضاحت چاہتے ہیں اور ان کو اسی طرح وضاحت دینی چاہیے جیسے نو عمر افراد کو۔ اگر ہم وضاحت نہیں کریں گے تو ، بچوں کے ذہن میں ہماری اقدار اور سوچ کے بارے میں سوال پیدا ہوں گے۔وہ والدین جو اپنے بچوں کے ساتھ دلائل سے بات کرتے ہیں وہ انہیںسیکھنے اور سمجھنے کی اچھی تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔

اپنی توقعات کا واضح طور پر اظہار کریں۔ اگر کوئی پریشانی ہے تو اسے بیان کریں ، اپنے جذبات کا اظہار کریں ، اور اپنے بچے کو اپنے ساتھ مل کر مسئلے کے حل پر کام کرنے کی دعوت دیں اور حل کے ممکنہ نتائج بھیبیان کریں۔تجاویز دیں اور ان میں سے حل منتخب کروانے کی کوشش کریں۔اپنے بچے کے مشوروں کے لئے بھی ذہن کھلا رہیں۔ گفت و شنید کریں ۔ جو بچے فیصلے کرنے میں حصہ لیتے ہیں وہ ان کو آگے بڑھانے میں بھی زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

7. اپنے طرز تربیت میں لچک کی گنجائش رکھیں

اگر آپ اکثر اپنے بچے کے طرز عمل سے "مایوسی" محسوس کرتے ہیں تو شاید آپ نے اس سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کی ہیں۔ بچوں کے ماحول کا ان کے طرز عمل پر اثر پڑتا ہے ، لہٰذا آپ ماحول کو تبدیل کرکے ان کا طرز عمل کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے دو سالہ بچے کومستقل طور پر "نہیں" کہتے جا رہے ہیں تو ، اپنے ارد گرد کے ماحول کو تبدیل کرکے دیکھیں، ہو سکتا ہے آپ کی مایوسی میں کمی واقع ہو جائے۔

بچے میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ آپ کو بطور والدین آہستہ آہستہ اپنے طرز پرورش کوبھی تبدیل کرنا پڑے گا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ جو بات اس وقت کارآمد ہے، شاید دو سال بعد اتنی مؤثر نہ ہو۔

نو عمر افراد رول ماڈل کے طور پر اپنے والدین کی طرف کم اور ہم جولیوں کی طرف زیادہ دیکھتے ہیں۔ لیکن اپنے نوعمربچوں کو آزادی سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائیکرتے رہیں اور مناسب انداز میں انہیں نظم و ضبط کی تربیت مہیا کرتے رہیں۔ اور یاد رکھیں! تعلق مضبوط بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں!

8. اس بات کا اظہار کریں کہ آپ کی محبت غیر مشروط ہے

والدین کی حیثیت سے ، آپ اپنے بچوں کی اصلاح اور رہنمائی کے ذمہ دار ہیں۔ لیکناصل بات یہ ہے کہ آپ اصلاح اور رہنمائی کس طرح کرتے ہیں، اور بچہ اسے کس نظر سے دیکھتا ہے۔

جب آپ کو اپنے بچے کی تادیب کرنی پڑے تو الزام تراشی ، تنقید ، یاان میں غلطی تلاش سے گریز کریں۔اس طرح کا رویہ ان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے اور ان میں باغیانہ خیالات پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی بجائے ، اپنے بچوں کو نظم و ضبط کے دائرے میں لاتے ہوئے بھی ان کی تربیت اور حوصلہ افزائیکا پہلو مد نظر رکھیں۔ انہیں باور کروائیں کہ اگرچہ آپ اگلی باران کا بہتر رویہ دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن آپ کی محبت میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

9. والدین کی حیثیت سے اپنی ضروریات اور حدود کو پہچانیں

اس حقیقت کو مان لیجیے کہ ضروری نہیں کہ ہم والدین کی حیثیت سے مثالی شخصیت کے مالک ہوں۔ خاندان کے سربراہ کے طور پر آپ خوبیوں کے مالک ہیں اور خامیوں کے بھی۔جہاں آپ کو اپنی صلاحیتوں کا علم ہونا چاہیے،وہیں اپنی کمزوریوںکو بہتر کرنے کا عہد بھی کرناچاہیے۔مثلاً "مجھے نظم و ضبط کے معاملے میں زیادہ مستقل مزاجی دکھانی چاہئے۔" اپنے شریک حیات اور بچوں سے حقیقت پسندانہ توقعات رکھنے کی کوشش کریں۔ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ ضروری نہیں آپ کے پاس ہر سوال کا جواب اور ہر مسئلے کا حل موجود ہو۔

بچوں کی تربیت اور پرورش کو ایک قابل عمل کام بنانے کی کوشش کریں۔ ایک ساتھ سب کچھ حل کرنے کی بجائے ان معاملات پر توجہ دیں جو سب سے زیادہضروری ہیں۔ جب آپ تھک جائیں تو اپنے آپ کو بھی وقت دیں۔ ان کاموں کے لئے وقت نکالیں جن سے آپ کو بطور فرد یامیاں بیوی کی حیثیت سے خوشی حاصل ہو۔

اپنی ضروریات پر توجہ دینے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خود غرض ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا خیال بھی رکھنا چاہتے ہیں ، جس میں آپ کے بچوں کے لیے بھی ایک سبق ہے۔