جمیل احمد
August 31, 2021

بچوں کی پرورش میں یہ غلطیاں نہ کریں

آج ہم ان نو غلطیوں کی بات کریں گے جو والدین عموماً بچے کی پرورش کے دوران میں کر بیٹھتے ہیں اور بعد میں بچوں کی زندگی میں ان کے نتائج دیکھتے رہتے ہیں۔لیکن ہم ان غلطیوں کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ ان کے بچنے کے طریقے بھی تجویز کریں گے۔

پہلی غلطی - بچوں سے محبت نہیں عقیدت رکھنا ۔

ہم اپنے  گھروں اور اسکولوں میں بچوں کو بے تحاشا آزادی اور سہولیات دینا چاہتے ہیں۔ والدین کے لیے یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ ان کی محبت اور محنت کے بدلے میں بچے ان پر توجہ اور پیار کی بارش برسا  دیں۔مگر اس دوران بچے سے ہماری محبت عقیدت میں تبدیل ہو جاتی  ہے۔ یہ تبدیلی معصوم ذہنوں کو 'میں، میرا اور مجھے ' کے مائنڈ سیٹ کی طرف لے جاتی ہے۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  بچوں کی فرمائشیں مانیں، آزادی دیں، محبت اور نرمی دیں لیکن اس محبت کو عقیدت میں تبدیل نہ کریں۔

دوسری غلطی- 'ہم سمجھتے ہیں کہ 'میرا بچہ پرفیکٹ ہے' -

بعض اوقات ہم  اپنے بچوں کے بارے میں کوئی تنقیدی بات سننا  اور اس کی کمزوری پر بات کرنا پسند نہیں کرتے، چاہے وہ خلوص اور محبت سے ہی کیوں نہ کی گئی ہو اور اگر ایسی کوئی بات کرنی پڑ جائے تو والدین کا رد عمل بہت شدید ہوتا ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ ایک بگڑے ہوئے بالغ آدمی کے مقابلے میں ایک شرارتی اوربگڑے ہوئے بچے کی کونسلنگ کافی موثر ثابت ہو سکتی ہے ۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  بچوں میں تبدیل ہونے، بہتر ہونے اور اچھی چیزیں جذب کرنے کی جو فطری صلاحیت ہوتی ہے، اسے استعمال کرتے ہوئے  ان  کی اصلاح کے لیے فوری کوشش کیجیے۔ایسا نہ ہو  کہ بات آپ کے ہاتھوں سے نکل جائے۔

تیسری غلطی  ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کو ہمارا  ڈپلیکیٹ ہونا چاہیے -

ہم بچوں کو اپنا ڈپلیکیٹ بنانے کی حد سے زیادہ کوشش میں بھول جاتے ہیں کہ وہ ہم سے الگ انسان بھی ہیں -ہم دراصل بچوں کی نہیں بلکہ اپنی نامکمل خواہشات پوری کرنے کی کوشش میں لگ جاتے  ہیں، یوں اپنی خوشی کو ہم دراصل ان کی خوشی سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  اپنے آپ کو اتنا  آئیڈیل بنائیں کہ بچے آپ کے پسندیدہ کام اپنی 'حقیقی شخصیت ' کے طور پر، اپنے رنگ ، انداز اور طریقے سے کریں، نہ کہ وہ آپ کو کاپی کرکے زندگی کو آگے بڑھائیں۔

چوتھی غلطی  ہم اپنے بچوں کا بہترین دوست بننا چاہتے ہیں

والدین  کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے ان سے محبت کریں، مگر ایک چیز جو والدین نظر انداز کرتے ہیں وہ یہ کہ 'صحیح تربیتی قدم' عموماً وہی ہوتا ہے جو بچوں کو پسند نہیں آتا۔وہ ایسے ہر قدم پر غصے کا اظہار کریں گے،لیکن یاد رکھیں کہ بہترین دوست بننے کے شوق میں آپ ایسے تمام کاموں کو چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو آپ کو بچوں کی نظر میں ظالم بنا دیں۔یہ بچوں سے محبت نہیں بلکہ آپ کی ضرورت ہے اور اسے سمجھنےکی کوشش کریں۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ 'معتدل حکمت عملی' اپنائیں یعنی جہاں ضرورت ہو پابندی لگائیں، سزا دیں اور زندگی کے حقائق پر بات کریں۔ جہاں بچے کو کوئی بڑا نقصان نہ ہو رہا ہو، وہاں بچوں کو با اختیار اور فیصلہ ساز بنائیں۔

پانچویں غلطی  مقابلہ بازی کا رجحان

ہمارے  اندر دوسروں کے بچے دیکھ کر مقابلہ بازی کی سوچ پیدا ہو جاتی ہے، ہم  اپنے بچے کے کسی اچھے پہلو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور دوسرے اس کا مقابلہ اپنے بچے سے شروع کر دیتے ہیں۔یہ اعتماد کی نہیں خوف کی علامت ہے کہ ہمارا بچہ پیچھے رہ جائے گا۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  ہر بچے کے اندر 'جو خاص' صلاحیتیں، عادات اور خصوصیات ہوتی ہیں، انہیں پہچاننے کی کوشش کریں اور انہیں ڈیولپ کریں۔دوسروں کے بچے کے ساتھ مقابلہ بازی کی عادت آہستہ آہستہ ختم کریں۔

چھٹی غلطی - بچپن کے سنہری دور کو بھول جانا

بچپن کے سنہری دور کو 'والدین' کی بجائے ایک بچہ بن کر سوچیں۔ بچوں کا شرارتی انداز میں کپڑے پہننا، فرشتوں جیسی مسکراہٹ، پھلجڑیوں سا کھلکھلانا، ننھے قدم اٹھا کر ادھر سے ادھر بھاگ کر ٹانگوں سے لپٹ جانا اور انوکھی بولیوں کے ذریعے کہانی سنتے ہوئے حیرت ظاہر کرنے جیسی باتیں  بعض اوقات ہمارے لیے غیر اہم ہوجاتی ہیں اور ہم اپنےساتھ ان کے بچپن کا 'سنہرا پن' بھی ختم کر دیتے ہیں ۔جب ہم زندگی کا دباؤ ان پر ڈالتے ہیں تو دراصل ہم ان کی معصومیت، بے ساختگی اور خوشی کو ختم کرنے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  ہم روز بچوں کے کم از کم 10 چھوٹے چھوٹے لمحات کا ان کے ساتھ لطف اٹھائیں، مستقبل کا دباؤ ان پر منتقل کرنے کی بجائے ان کے ساتھ بچہ بن کر سوچیں اور کھیلیں۔

ساتویں غلطی  قول و فعل کا تضاد

بہت سے  والدین کی باتیں  ان کے کردار سے متضاد ہوتی  ہیں۔اس طرح  ہم بچوں کو دہری شخصیت میں ڈھال رہے ہوتے ہیں، بچے والدین کی  سب چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور والدین کے عمل سے سیکھتے ہیں۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ   ہم خود ان کےلیے  رول ماڈل بننے کی کوشش کرتے رہیں۔

آٹھویں  غلطی - دوسرے والدین اور ان کے بچوں پر فیصلے صادر کرنا

کسی کی پرورش کا  اسٹائل ہم سے کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو، یہ ہمارا اختیار نہیں کہ ہم ان پر فیصلے صادر کریں، کوئی بھی اس دنیا میں مکمل درست یا مکمل غلط نہیں ہوتا، ہم سب اچھائی اور برائی کا امتزاج ہو سکتے ہیں۔پھر ہر ایک کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔اس لیے دیگر والدین اور ان کے بچوں پر اعتراض یا تنقید کرنا ان کے لیے تباہ کن بھی ہو سکتا ہے۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  کسی کے حوالے سے ذہن بنانے سے پہلے اسے اور اس کی شخصیت، گھریلو حالات اور اس کے مسائل کو سمجھنے کی عادت پیدا کریں۔

نویں غلطی - کردار سازی  کو نظر انداز کرنا

اگر والدین کو بچوں میں صرف اور صرف ایک چیز ڈیولپ کرنے کی اجازت ہو تو بلاشبہ یہ واحد چیز کردار ہونی چاہیے، کرداریعنی ہمارے اندر کی بنیادی وصف، راہ دکھانے والا ہمارا 'اندر کا چراغ، یاد رکھیں کہ کردار کی بہتری امتحانات میں اچھی رپورٹ کارڈ، ٹرافی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔لیکن ہم اپنے بچوں میں کردار نکھارنے کو ایک اضافی کام سمجھتے ہیں، والدین سوچتے ہیں کہ بڑے ہو کر ان کا کردار خودبخود ٹھیک ہو جائے گا ۔

اس غلطی سے بچنے کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ  بچوں کی زندگی کے کاموں اور ایشوز کو 3 اقسام میں تقسیم کر کے ان کی فہرستیں بنائیں اور ان کے مطابق بچوں کی کردار سازی کے لیے شارٹ ٹرم ، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے تیار کریں۔