جمیل احمد
November 20, 2020

آپ کے بچے میں نظم و ضبط کیسے پیدا ہو؟

آپ کے بچے کی عمر جو بھی ہو ، نظم و ضبط کے سلسلے میں ان کے ساتھ مستقل مزاجی کا مظاہرہ بہت ضروری ہے۔ اگر والدین اپنے وضع کردہ قواعد اور ان کے نتائج پر قائم نہیں رہتے تو بچوں سے بھی نظم و ضبط کی توقع رکھنا عبث ہے۔یہاں ہم بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے حوالے سے کچھ تجاویز پر بات کریں گے:

1۔دو سال تک کی عمر کے بچے

بچے فطری طور پر متجسس ہوتے ہیں۔ لہٰذا ، انہیں غیر ضروری چیزوں سے دور رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، جیسے کہ ٹی وی اور ویڈیوکے آلات ، زیورات اور خاص طور پر صفائی کےسامان اور دوائیوں کو ان کی پہنچ سے دور رکھنا چاہئے۔

جب آپ کا بچہ جس نے صحیح سے چلنا نہیں سیکھا، کسی ناپسندیدہ چیز یا خطرناک کھیل کی طرف بڑھے تو ، آرام سے "نہیں" کہیں یا اسے اس جگہ سے ہٹا کر کسی مناسب سرگرمی میں مشغول کر دیں۔

"ٹائم آؤٹ" کا طریقہ چھوٹے بچوں میں نظم و ضبط کے لئے موثر ہوسکتا ہے۔ یعنی ایک بچہ جو مارنے ، کاٹنے، یا کھانا پھینکنے کی کوشش کرے ، اسے بتایا جانا چاہئے کہ یہ رویہ ناقابل قبول کیوں ہے ۔اسے کسی مقررہ وقت مثلاً ایک یا دو منٹ کے لیے باورچی خانے کی کرسییاعلیٰحدہ کمرے میںبٹھا دیا جائے۔ زیادہ دیر کے لیے علیٰحدگی فائدہ مند نہیں ہو گی۔

کسی بھی عمر کے بچے کو تھپڑ لگانے یا مار پیٹ سے آخری حد تک گریز کرنا چاہیے۔چھوٹے بچے اپنے برتاؤ اور جسمانی سزا کے مابین کوئی تعلق قائم نہیں کر سکتے۔ انہیں صرف جسمانی سزا کا دردمحسوس ہو گا۔

اوریہ نہ بھولیں کہ بچے بڑوں خصوصاً اپنے والدین کو دیکھ کر ہی سیکھتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا طرز عمل ایک رول ماڈل جیسا ہے۔ جب آپ کا سامان کمرے میں بکھرا پڑا ہو گا تو بچے کو کھلونے ترتیب سے رکھنے کے لیے کہنا فضول ہو گا۔آپ کا سامان ترتیب سے رکھا ہو گا تو آپ کی بات بچے پر مضبوط تاثر ڈالے گی۔

2۔تین سے پانچ سال تک کی عمر کے بچے

جب آپ کا بچہ ذرا بڑا ہونے لگے اوراپنے کاموں اور نتائج کےدرمیان تعلق کو سمجھنے لگے ، تو آپ اپنے گھر کے قواعدو ضوابط پر بات چیت کرنا شروع کردیں۔

بچوں کوکسی بات پرسزا دینے سے پہلےیہ بتائیں کہ آپ ان سے کیا توقع کرتے ہیں۔ پہلی بار جب آپ کا تین سالہ بچہ کمرے کی دیوار پر پنسل سے رنگوں کی لکیریں لگانے لگے، تو اسے بتائیں کہ ایسا کیوں نہیں کرنا چاہیے، اور اگر آپ نے دوبارہ ایسا کیا تو کیا ہوگا، مثال کے طور پر ،بچے کو دیوار صاف کرنے میںآپ کی مدد کرنا ہوگی اور اسے باقی دن کے لئے رنگ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اگر کچھ دن بعد دیوارپر دوبارہ لکیریں نظر آئیں تو یاد دہانیکروائیں کہ یہ رنگ صرف کاغذ کے لیے ہیں اور پھرایسا ہو تو اس فعل کے نتائج پر عمل کریں۔

جتنا جلدی آپ بچے کو یہ بتائیں گے کہ، "میں نے یہ اصول طے کیے ہیں اور آپ سے نتائج سننے یا قبول کرنے کی توقع کرتا ہوں"اتنا ہی سب کے لیے بہتر ہو گا۔ اگرچہ بعض اوقات والدین کبھی کبھار برے طرز عمل کو نظر انداز کر جاتے ہیں یا سزا پر عمل نہیں کرتے، لیکن اس سے کوئی اچھی مثال قائم نہیں ہوتی۔سزا سے محض ڈرانے اور اس پر عمل نہ کرنے سے والدین کی حیثیت سے آپ کے اختیار کو نقصان پہنچتا ہے، اور اس کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ بچے بتائی گئی حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کریں۔ مستقل مزاجی موثر نظم و ضبط کی کلید ہے ۔ والدین مل کر فیصلہ کریں کہ کون سے اصول بنانے ہیں، پھر ان اصولوں کی پاسداری کریں۔

جہاں یہ طے ہو کہ کس طرح کے طرز عمل پر سزا دی جائے گی ، وہیں اچھے طرز عمل پر انعام دینا نہ بھولیں۔ آپ کی تعریف سے بچے کے طرز عمل پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ نظم و ضبط صرف سزا کا نام نہیں، بلکہ اس میں اچھے طرز عمل کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ "مجھے خوشی ہے کہ آپ نے کلاس میں اپنے کھلونوں سے دوسرے بچوں کو بھی کھیلنے دیا"عام طور پر اس بچے کو سزا دینے سے زیادہ موثر ہے جس نے ایسا نہیںکیا۔ تعریف کرتےہوئے"بہت خوب" کہنے کی بجائے واضح طور پر بتائیں کہآپ نے کس بات کی تعریف کی ہے۔ اس سے بچے کو آئندہ بھی ایسا ہی طرز عمل اختیار کرنے کے تحریک ہو گی۔ ہم کسی طرز عمل پر جتنی زیادہ توجہ دیتے ہیں اتنا ہی بچے میں اس کے جاری رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اگرکوشش کے باوجود آپ کا بچہ نا پسندیدہ طرز عمل جاری رکھے تو ہفتے کے ہر دن کے لئے ایک چارٹ بنانے کی کوشش کریں، جس میں درج کریں کہ کتنی بار غلط طرز عمل کے مظاہرے پر اسے سزا دی جائے گی یا کتنی مرتبہ اچھے طرز عمل کے مظاہرے پر اسے انعام دیا جائے گا۔ اس چارٹ کو ریفریجریٹریا دیوار پر چسپاں کریں اور پھر بچے کے اچھے اور برے طرز عمل کو کو ہر روز ٹریک کریں۔ اس سے آپ اور آپ کے بچے کو واضح طور پر پتہ چلے گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ ایک بار جب یہ کام شروع ہوجائے تو غلط طرز عمل، بالخصوص ضد اور ہٹ دھرمی پر قابو پانے کی کوشش کرنے پر اپنے بچے کی تعریف کریں۔

"ٹائم آؤٹ" کا طریقہ بھی اس عمر میں بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے موثر ہو سکتا ہے۔ ٹائم آؤٹ کے لیے شور شرابے سے پاک مناسب جگہ کا انتخاب کریں ، جیسے کرسییا نیچے والا کمرہ۔ اگراس جگہ پر کمپیوٹر ، ٹی وییا کھیلنے کا سامان موجود ہے تو بچے کو وہاں بھیجنافائدہ مند نہیں ہے۔ نیز ، ٹائم آؤٹ کے دوران میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ کریں، یعنی اس دوران میں آپ بچے کی طرف بالکل توجہ نہ دیں،مثلاً اس سے بات کرنےیا اس کی طرف دیکھنے سے گریز کریں۔

ٹائم آؤٹ کے لیے وقت کی طوالت پر ضرور غور کریں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ عمر کے ہر سال کے لئےایک منٹ ایک اچھا قاعدہ ہے۔بعض دوسرے ماہرین کے مطابق ضبط نفس کو پختہ کرنے کے لیے اس وقت تک ٹائم آؤٹ جاری رکھیں جب تک بچہ پر سکون نہ ہوجائے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر آپ کے بچے کو ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ٹائم آؤٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آپ خود بھی اپنے اصولوں پرعمل کریں۔

بچوں کو غلط طرز عمل کی نشانیوں کے ساتھ ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ صحیحکیا ہے۔ مثال کے طور پر ، "صوفے پر چھلانگ نہ لگائیں" کی بجائے یہ کہنے کی کوشش کریں کہ " براہ کرم صوفے پر بیٹھ جائیں اور اپنے پیروں کو فرش پر رکھیں۔ "

واضح اور سیدھی ہدایات دیں۔ "کیا آپ براہ کرم اپنے جوتےپہنیں گے؟" کی بجائے یہ کہیں کہ "براہ مہربانی اپنے جوتے پہنیں۔" اس سے کسی الجھن کی گنجائش باقی نہیں رہےگی اور بچے کو بھی پیغام ملے گا کہ اس وقت جوتے پہننا یا نہ پہننا اس کی مرضی پرمنحصرنہیں ہے۔

3۔چھ سے آٹھ سال تک کی عمر کے بچے

ٹائم آؤٹ کا طریقہ اس عمر کے بچوں کے لیے بھی ایک مؤثر حکمت عملی ہے۔

مستقل مزاجی اور فیڈ بیک بھی پہلے کی طرح ان بچوں کے لیے ضروری ہیں۔ نظم و ضبط کے حوالے سے اپنی بات پوری کریں ورنہ آپ اپنے اختیار کو مجروح کرنے کا خطرہ مول لیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ بچوں کو دوسرا موقع نہیں دے سکتے یاسرے سے غلطیکرنے کا موقع ہی نہیں دے سکتے ، لیکن زیادہ تر آپ کو اپنیکہی ہوئی بات پر عمل کرنا چاہئے۔

خیال رکھیں کہ سزا کے غیر حقیقیانداز نہ اپنائیں، مثلاً یہ کہنا کہ،"آئندہ آپ کبھی بھی ٹی وی نہیں دیکھیں گے!" ، کیوں کہ اگر آپ نے اس پر عمل نہ کیا تو آپ اپنی بات کو کمزور ثابت کریں گے۔ فرض کیا آپ کہتے ہیں کہ،"اگر آپ نے لڑنا بند نہیں کیا تو میں گاڑی واپس گھر کی طرف موڑ لوں گی" تو پھر ایسا ہی کریں۔ بچوں کے سامنے آپ کی اچھی ساکھ دوسری چیزوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

بچوں کو بہت بڑی سزا دینا بھی آپ کے اختیار کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر آپ اپنے بیٹےیا بیٹی کو ایک مہینہ تک لمبی سزا دیتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کا بچہ اپنے طرز عمل کو تبدیل نہ کرے کیونکہ وہ تو پہلے ہی سب کچھ کھو چکا ہے۔ البتہ بچوں سے اگر کوئی سہولتیں واپس لی گئی ہیں تو انہیں دوبارہ بحال کرنے کے لیے انہیں کچھ اہداف ضرور دیں۔

4۔نو سے بارہ سال تک کی عمر کے بچے

اس عمر کے بچوں کو بالکل دوسرے بچوں کی طرح فطری نتائج سے آگاہ کر کے نظم و ضبط کا عادی بنایا جا سکتا ہے۔ چونکہ وہ سمجھدار ہیں اور نسبتاً زیادہ آزادی چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کو اپنے طرز عمل کے نتائج سے خود نمٹنے کے لئے تیار کرنا نظم و ضبط کا ایک موثر طریقہ ہے۔

مثال کے طور پر ، اگر آپ کے بچے نے سونے سے پہلےہوم ورک نہیں کیاہے تو کیا آپ کو اسے ہوم ورک مکمل کرنے کے لیے کہنا چاہیے،اور کام مکمل کرنے میں خود بھی اس کی مدد کر نی چاہیے؟ شاید نہیں! اس لیے کہ آپ اسے زندگی کا ایک اہم سبق سکھانے کا موقع گنوا دیں گے۔ اگر ہوم ورک نامکمل ہے تو ، آپ کا بچہ اگلے دن اس کے بغیر اسکول جائے گا اور اس کا خراب نتیجہ آئے گا۔

والدین فطریطور پر بچوں کو غلطیوں سے بچانے میں ان کی مد کرنا چاہتے ہیں ، لیکنآگے چل کر اسی وجہ سے انہیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر صورتوں میں جب بچے دیکھیں گے کہ غلط کام کا کیا نتیجہ نکلتا ہے تو شاید وہ دوبارہ غلطیاں نہیں کریں گے۔ تاہم ، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ فطری نتائج سے سبق حاصل نہیں کررہا ہے تو ، اسے اپنا طرز عمل تبدیل کرنے میں مدد دینے کے لیے خود کچھ اصول ترتیب دیں۔ مثلاً الیکٹرانکس جیسیسہولیات کو واپس لینا اس عمر کے بچوں کے لئے ایک موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔

5۔تیرہ سال اور اس سے اوپر کی عمر کے بچے

اب آپ نے ایک بنیاد رکھ دی ہے۔ آپ کا بچہ جانتا ہے کہ اس سے کیا توقع کی جاتی ہے اوراسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کے اصولوں کے مطابق اسے برے طرز عمل کے برے نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس تاثر کو قائم رکھیں کیوں کہ نوجوانوں میں بھی ڈسپلن اتنا ہی ضروری ہے جتنا چھوٹے بچوں کے لئے۔آپ کے نوعمر بچوں کےلیے بھی حدودمتعین کرنے کی ضرورت ہے۔

ہوم ورک ، دوستوں کے ساتھ ملنے اور دوسری سرگرمیوں سے متعلق قواعد مرتب کریں اور اپنے نوعمر بچے سے اس کے متعلق پہلے ہی بات کرلیں تاکہ کوئی غلط فہمی باقی نہ رہے۔ ہو سکتا ہے کبھی کبھار آپ کا بچہ شکایت کرے ، لیکن اسے یہ احساس رہے گا کہ وہ آپ کے کنٹرول میں ہے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں ، نوعمروں کو اب بھی اس کی ضرورت ہے کہ آپ ان کی زندگی میں حدود طے کرنے اور ترتیب دینےمیں ان کی مدد کریں، چاہے انہیں زیادہ آزادی اور ذمہ داری ہی کیوں نہ مل جائے۔

جب آپ کے نوعمر بچے کسی قاعدے کو توڑیں توان سے سہولیات واپس لے لینا غالباً بہترین حکمت عملی ہو گی۔ مثال کے طور پرمقررہ وقت سے لیٹ گھر واپس آنے پر بچے سے ایک ہفتہ کے لیے بائیسکل واپس لی جا سکتی ہے۔اسے بتایا جائے کہ دیر تک گھر سے باہر رہنا کیوں خطرناک اور ناقابل قبول ہے۔

نوعمر بچے کو چیزوں پر کچھ اختیارات بھی دیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ اختیارات کی جد و جہد کم ہوگی بلکہ آپ کے نوعمر بچوں کوآپ کے فیصلوں کا احترام کرنے میں مددبھی ملے گی۔ آپ کسی نوعمر بچے کو کپڑوں یاہئیر سٹائل کے انتخاب ، یا اس کے کمرے کی سجاوٹ سے متعلق فیصلے کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ اس کے لیے گھر سے باہر رہنے کے اوقات میں بھی لچک پیدا کر سکتے ہیں۔

مثبت باتوں پر توجہ مرکوز کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ، اپنے نوعمر بچوں کو ان کے اچھے طرز عمل پر باہر کھانے کے لیے لے جا سکتے ہیں یا ان کے باہر رہنے کے اوقات میں قدرے نرمی کر سکتے ہیں۔