مصباح بشیر
January 13, 2021

استاد کی قدر و منزلت

اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کو عز ت و احترا م اور وقا ر و اہمیت دیے بغیر کسی ملک و قوم نے  ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کی اور نہ ہی اس  کا حصول اساتذہ کی  تعظیم و تکریم کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر ممکن ہے۔ بلاشبہ اساتذہ عزت و احترام کے حق دار ہیں۔ بلاشبہ اساتذہ ہی معمارِ قوم ہیں۔ بلاشبہ ایک استاد کا ہی شعبہ ایسا ہے جو باقی تمام شعبے پیدا کرتا ہے۔ اور اساتذہ دیگر تمام طبقات کے نام ور افراد سے بڑھ کر عزت و وقار اور اہمیت کے حقیقی مستحق ہیں۔ ان کی قدروقیمت کو بہر حال سمجھنا ضروری ہے۔ 

 

 اسلام میں استاد کے ادب کو بہت بلندی پر رکھا گیا۔ اور استاد کی قدر اسلامی تر بیت کا ایک اہم حصہ ہے۔ حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے،”جسں نے مجھے ایک حرف پڑھایا میں اس کا غلام ہوں، چاہے مجھے بیچے یا آزاد کرے یا غلام بناۓ رکھے۔" ایسے میں ہمیں خود سوچنا چاہیے کہ ایک استاد کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ صرف ایک طالبِ علم پر ہی یہ فرض نہیں کہ وہ استاد کا احترام کرے بلکہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ استاد کا احترام کرے۔ کیونکہ والدین کے بعد استاد ہی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے شاگرد کو اپنے سے بہتر دیکھنا چاہتا ہے، اپنے سے اونچے درجے پر لانا چاہتا ہے، اپنے شاگرد کی کامیابی کے لٸیے دل سے دعا کرتا ہے، اور اس کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے۔ 

اے استادِ محترم تیری عظمت کو سلام۔

 

بلا شبہ کامیابی کی پہلی سیڑھی استاد ہے۔ بلاشبہ زمین سے بلندیوں تک پہنچانے والی ہستی استاد ہے۔ استاد ہی معاشرے کو زندگی گزارنے کا طریقہ اور مقصد سکھاتا ہے۔ استاد ہی سوچ اور فکر کی راہ متعین کرتا ہے، اور استاد ہی زندگی کی گتھیاں سلجھانے کے گُر بتاتا ہے۔

 

استاد ہر دور میں انمول رہا ہے۔ سکندرِ اعظم سے کسی نے پوچھا، آپ استاد کو باپ پر ترجیع کیوں دیتے ہیں؟ تو اس نے جواب دیا کہ: باپ تو مجھے آسمانوں سے زمین پر لایا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔ باپ سبب حیاتِ فانی اور استاد موجب حیاتِ جاودانی ہے۔ باپ نے میرے جسم کی پرورش کی لیکن استاد نے روح کی پرورش کی۔ تو پھر کیسے میں استاد کو کمتر سمجھوں۔

 

استاد وہ عظیم رہنما ہوتا ہے جو انسان کو اچھائی اور برائی میں تفریق کرنا سکھاتا ہے، انسان کی تربیت کرتا ہے، اور اسے ایسی زندگی عطا کرتا ہے جو مرنے کے بعد بھی جاوید رہتی ہے۔ استاد ہی انسان کے بکھرے ہوئے خیالات کو ایک ایسا تخیل عطا کرتا ہے جو علامہ اقبال کی صورت میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا:

 

اے استادِ محترم کیا مقام ہوتا تیرا

میں تجھ کو سجدہ کرتا

اگر مجازی خدا نہ ہوتا

 

بلاشبہ وہی قومیں کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوٸیں جنہوں نے استاد کے احترام کو اپنا شیوہ بنایا۔ آج کل ہمارے معاشرے میں استاد کو وہ عزت و احترام نہیں دیا جا رہا جس کا وہ حق دار ہے۔ بچے کی ہر غلطی کوتاہی پر استاد کو ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے کہ استاد نے کچھ نہیں سکھایا۔ استاد تو سب کچھ سکھاتا ہے لیکن تربیت میں والدین کا کردار بھی ضروری ہے۔ تربیت وہی کارآمد ہوتی ہے جو گھر سے ہو، کیونکہ بچہ زیادہ دیکھنے سے سیکھتا ہے۔ جیسا گھر میں ماحول ہوتا ہے ویسا ہی بچہ بن جاتا ہے۔ تو سب سے پہلے اصلاح والدین کو اپنی کرنی ہو گی، تاکہ بچہ اپنے والدین کو دیکھ کر ان جیسا بننے کی کوشش کرے۔

 

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ایک استاد کس طرح آپ کے بچوں کو پالتا ہے، قلم پکڑنا سکھاتا ہے، کس طرح آپ کے بچوں کو اپنوں سے بڑھ کرسمجھتا ہے، کس طرح ان کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، کس طرح ان پر محنت کرتا ہے، کس طرح اپنے سے بڑھ کر ان کا خیال رکھتا ہے، کس طرح ان کے لیے مشکل راہیں ہموار کرتا ہے، کس طرح ان کے لیے دعاٸیں کرتا ہے، کس طرح انہیں انگلی پکڑ کر قدم قدم چلنا سکھاتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ آپ کےبچے اپنی رفتار میں پختہ قدموں سے چلتے ہیں۔ بلاشبہ ان کی کامیابی کے پیچھے ایک استاد ہی ہوتا ہے۔ اے استادِ محترم تیری عظمت کو سلام۔ 

 

کھلتے گلاب کی طرح ہے ایک استاد کا ساتھ شاگردوں کے لیے

جو استاد نہ ہو تو مرجھا جاٸیں زندگیاں سب کی

آخر میں میری اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کے استادوں کو سلامت رکھے، ان کو ہمیشہ خوش رکھے، ان پہ اپنی خاص رحمت و برکت نازل فرمائے، ان کی مشکلوں کو آسان کرے، ان کو عروج اور کمال عطا فرمائے اور ان کی عمر دراز کرے۔ آمین یا رب العالمین!

 

تیرے سارے احسانوں کی میں تجھ کو دعا دوں گی

اے ٹیچر

تیری ساری نصیحتوں کو میں سنبھال لوں گی