جمیل احمد
November 16, 2020

کمرۂ جماعت میں تخلیقی رجحان کو فروغ دینے کے جدید آئیڈیاز

یہ تصور اب متروک ہوتا جارہا ہے کہ تخلیقی صلاحیت صرف رنگوں اور پنسلوں کےاستعمال ہی سے ظاہر ہوتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ تخلیقی صلاحیت مسائل کے حل اور بہترین فیصلے کرنے کے لیے ہر شعبۂ زندگی کی ضرورت ہے۔ ایک سروے کے مطابق 1500 سی ای اوز کے نزدیک تخلیقی صلاحیت ملازمت کے لیے درکار صلاحیتوں میں سے انتہائی مطلوبہ خصلت ہے۔ اسی طرح ، کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہمکتنے تخلیقی انداز میں سوچتے اور سیکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کلاس روم وہ بہترین جگہ ہے جہاں سے تخلیقی صلاحیتوں کی نشو و نما کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔

1۔ایک ہمدردانہ اورخیر مقدمی ماحول بنائیں:

چونکہ تخلیقی کام کرنے کے لئے بالکل منفرد اور انوکھے انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، لہٰذا طلباء کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ آپ کے سامنے غلطی کرسکتے ہیں۔

2۔طلباء کے خیالات کا ساتھ دیں:

طلباء کے ساتھ غیررسمی گفتگو کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کس چیز میں ان کا شوق زیادہ ہے ، اور اس کو اپنی سوچ میں جگہ دیں۔

3۔آزادانہ کام کی حوصلہ افزائی کریں:

: خود منصف بنتے ہوئے اچھے یا برے کام کا فیصلہ نہ کریں بلکہ طلباء کو اس طرح فیڈ بیک دیں کہ وہ اپنے کام کا خود جائزہ لے سکیں اور آزادی سے کام کر سکیں۔

4۔تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے لئے معمول کے الفاظ کی بجائے نئے متبادل الفاظ استعمال کریں:

مثلاً اپنیاسائنمنٹس میں "تخلیق ،" "ڈیزائن" ، "ایجاد" ، "تصور ،" "فرض کریں" جیسے الفاظ شامل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ کہنے کی کوشش کریں کہ،"جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ حل سامنے لائیں" یا "ذرا نئے انداز میں سوچیں!" اس طرح سے طلباء کی تخلیقی کارکردگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

5۔طلباء کو ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر براہ راست آراء دیں

بہت سارے طالب علموں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنے تخلیقیذہن کے مالک ہیں ، یاانھیں اپنے "تخلیقی" ہونے کے بارے میں رائے ہی نہیں دی جاتی۔ خواندگی اور ریاضی میں روایتی تعلیمی قابلیت کے ساتھ ساتھ "تخلیقی قابلیت" کے آئیڈیا کو بھیطلباء میں دیکھنے کی کوشش کریں، اس لیے کہ جب ہم کسی چیز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ، ہم اس کو اہمیت بھی دینے لگتے ہیں!

6۔طلباء کو یہ جاننے میں مدد دیں کہ تخلیقی ہونا کب مناسب ہے:

: مثال کے طور پر ، یہ دیکھنے میں ان کی مدد کریں کہ کس سیاق و سباق میں تخلیقی صلاحیت کا استعمال موزوں ہے اور کہاں نہیں ہے۔

7۔جہاں ممکن ہو، مختلف اسباق اور مواقع پر تخلیقی تدریسی حکمت عملیوں اور طریقوں کا استعمال کریں:

اپنی بول چال اور روزمرہ کے کاموں میں تخلیقی صلاحیت کے استعمال کا مظاہرہ کریں۔ مثال کے طور پر ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ ،"میں نے اس سبق کو پڑھانے کےتین طریقوں کے بارے میں سوچا تھا، جن میں سے دو میں استعمال کروں گا، تیسرے کے بارے میں آپ خود سوچیں گے ، " یا انہیں ایک ایسا ذاتی پروجیکٹ دکھائیں جس پر آپ کام کر رہے ہیں۔

8۔طلباء کے پریشان کن رویوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں:

جو طلبا ءاکثر پریشان کن رویوں کا اظہار کرتے ہیں،دیکھیں کہ کیا آپ کو ان کے طرز عمل میں کوئی تخلیقی صلاحیت نظر آتی ہے۔ شاید اس صلاحیت کو کسی دوسری جگہ مفید انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہو!

9۔اپنے طلباء کے داخلی محرکات کو تقویت دیں:

: داخلی محرکات تخلیقی صلاحیت کے لیے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ متعدد مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کلاس روم میں محض انعامات اور ترغیبات پر بھروسہ کرنا کسی کام کو مکمل کرنے کے لئے اندرونی محرک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے کہ طلباء کے دوسروں کے ساتھ تقابل کو محدود کیا جائے۔ کم سے کم نگرانی کے ماحول میں انھیں کام کرنے کا موقع دیا جائے اورجہاں ممکن ہو ان کے شوق کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

10۔طلبا پر یہ واضح کریں کہ تخلیقی صلاحیتوں کی نشو و نما کے لئے کوشش کی ضرورت ہے:

: تخلیقی عمل کوئی آسان کام نہیں ہے۔طلباء کو بتائیں کہ تخلیقی لوگوں کو کسی پروجیکٹ پر کام کرتے ہوئے تخیل قائم کرنے ، اس پر کام کرنے ، اور پھر سے نئے تخیلات کی ضرورت ہوتی ہے۔

11۔ تخلیقی صلاحیتوں کے بارے میں غلط تصورات واضح کریں:

یہ سمجھنے میں طلباء کی مدد کریں کہ کون سی بات تخلیقی صلاحیت کے زمرے میں آتی ہے اور کون سی نہیں، اور اپنے آس پاس کی دنیا میں اسے کیسے پہچانا جائے۔

12۔ایسی سرگرمیوں کا اہتمام کریں جہاں طلباء تخلیقی سوچ پر عمل کرسکیں:

بہت سے اساتذہ کے پاس تخلیقی سرگرمیوں کے لئے آزمودہ عملی تجاویز ہوتی ہیں۔ تخلیقی تحریروں جیسی سرگرمیاں اس سلسلے میںطلباء کو مدد دے سکتی ہیں۔ اسی طرح تصوراتی کارٹوننگ، ڈیزائن اور پینٹنگ کی سرگرمیاں بھی تخلیقی صلاحیت کے فروغ میں مدد دے سکتی ہیں۔