جمیل احمد
November 16, 2020

استاد جو زندگی بدل دے

ایک سروے کے تحت،اس سوال کے جواب میں کہ وہ استاد کیسا ہوتا ہے جو اپنے طلباء کی زندگی بدل دیتا ہے،اساتذہ ، والدین اور طلبا ءکی طرف سے 700 سے زیادہ ردعمل سامنے آئے۔ جب جوابات کا تجزیہ کیا گیا تو کچھ واضح جوابات ابھرنا شروع ہوگئے ، جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

1۔زندگی بدلنے والے اساتذہ اپنے طلباء کو تحفظ کا احساس دلاتے ہیں

تحقیق سے بالکل واضح ہےکہ جب لوگ مضطرب، خوف زدہ یا صدمے کی حالت میں ہوں تو سیکھ نہیں سکتے۔ تحفظ تعلیم ہی کا ایک حصہ ہے۔بہت سے لوگوں نے بتایا کہ بہترین اساتذہ اپنے کلاس روم میں حفاظت اور مدد کا ماحول قائم کرتے ہیں۔یہ مددجسمانی ، جذباتییاذہنی طور پر ہو سکتی ہے۔

ایک جواب میں ایسے استاد کے بارے میں یوں بتایا گیا کہ،"ان کی موجودگی ہمارے لیے سکون کا باعث ہوتی ہے۔ انہوں نے مجھے تحفظ اور اعتماد کا احساس دلایا۔"جب کسی طالب علم کی گھریلو زندگی غیریقینی ہوتی ہے تو سکول صحرا میں نخلستان جیسا محسوس ہوتا ہے۔ایک اور جواب میں اس طرح بتایا گیا کہ،"میری چھٹی جماعت کی استانی میں استحکام اور استقلال تھا۔ انھوں نے مجھے ایک پوری شخصیت کے طور پر دیکھا اورجب میری زندگی میں چیزیں خراب ہوتیں تو وہ میرے لیے سہارا ثابت ہوتیں۔"

اسی طرح کچھ معذور بچوں کی کہانیاں تھیں جنھیں ایک ہمدرد استاد کی مدد سے سکول کی صورت میں ایک پناہ گاہ اور حوصلہ ملا۔ ایک اور جواب میں کسی نے لکھا کہ، "ان کی استانی نے پیچھے بیٹھنے والی ایک خاموش لڑکی کو احساس دلایا کہ شاعری اس کی آواز ہے۔"

2۔زندگی بدلنے والے اساتذہ اپنا جذبہ و جنون دوسروں میں منتقل کر دیتے ہیں

تعلیم کا جنون بہترین اساتذہ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑ رہا ہوتا ہے،اورایسے اساتذہ اسے طلباء میں منتقل کر دیتے ہیں۔

ایک جواب میں کہا گیا کہ،"ہمارے ریاضی کے استاد کا اپنے مضمون میں شوق طلباء میں پھیل گیا تھا۔انھوں نے ہمارے تجسس کو ابھارنے والے بہت ہی دلچسپ اسباق پیش کیے، اور ہمیں اپنے طریقوں سے سوال حل کرنے کا موقع دیا۔" اور ایک استاد کا جنون تو شاید اپنے وقت سے بہت آگے تھا۔ایک جواب میں اپنی انگریزی کی ٹیچر کو یاد کرتے ہوئے بتایا گیا کہ، "انھوں نے اپنی کلاس میں دوسروں سے کہیں پہلے کثیر الثقافتی ادب متعارف کروادیا تھا۔ وہ دراصل غیر روایتی سوچ کی سرخیل تھیں۔"

3۔زندگی بدلنے والے اساتذہ صبر کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں

سیکھنا اور سکھانا ایک مشکل اور وقت طلب کام ہے۔ کلاس رومز میں طلباء ہر روز مختلف جذباتی ضروریات کے ساتھ آتے ہیں ، اور مختلف رفتار سے سیکھتے ہیں۔ زندگی بدلنے والے اساتذہ اس افراتفری کے درمیان پرسکون رہنےاور دور رس کام کا ایک راستہ تلاش کرتے ہیں ، جس سے ان کے طلباء کو سیکھنے کا وقت اور ضروری مدد مل جاتی ہے۔

ایک طالبہ اپنے استاد کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں،"وہ ہائی سکول سے مجھے پڑھنے کے لیے کتابیں لا کر دیتے تھے۔میں نے اپنی زندگی میں ان سے زیادہ صابر استاد نہیں دیکھا۔ انھوں نے مجھے بہت کچھ دیا جب کہ میں نے شایدانھیں سر دردی کے علاوہ کچھ نہیں دیا!"کچھ اساتذہ محض صبر کا عملی نمونہ ہیپیش نہیں کرتے ، بلکہ اسے زندگیگزارنے کی مہارت کے طور پر سکھاتے بھی ہیں۔ ایک اور طالب علم نے بتایا کہ،"ایک طالب علم کی حیثیت سے میں ہمیشہ جلدی نتائج حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کوشش میں بہت سی غلطیاں کر جاتا تھا۔میرے استاد نے مجھےذرا رک کر اور سوچ کر کام کرنا سکھایا۔"

ایک طالبہ نے اپنا تجربہ یوں بیان کیا کہ،"غلطیوں سے سیکھنے کے تصور پر تحقیق سے بھی پہلے میری ٹیچر نے سکھایا تھا کہ غلطیاں کرنا اور ان سے سیکھنا اچھی بات ہے ، غلطیوں کو درست کرنے کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ میں اب فخر سے انھیں بتا سکتی ہوں کہ میں اپنے مڈل اسکول کے ریاضی کے بچوں کے ساتھ بھی اسی سوچ کے ساتھ کام کرتی ہوں۔"

4۔زندگی بدلنے والے اساتذہ جانتے ہیں کہ کب سختی کرنی ہے

زندگی بدلنے والے اساتذہ جہاں صبر کرتے ہیں وہاں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کب رویہ تبدیل کرنا ہے اور سختی کرنی ہے۔ اس طرح دراصل وہ ہمیں بہتر طلباء اور بہتر انسان بننے کا چیلنج دے رہے ہوتے ہیں۔

ایک طالبہ نے اپنے انگریزی کے استاد کے بارےمیں بتایا: "میں اپنا کام ختم کر کے فارغ بیٹھ جاتی تھی۔ وہ واحد شخص تھےجنھوں نے مجھے حقیقت میں کام کرنے کا چیلنج دیا اوراس عادت سے چھٹکارا دلایا۔ اس بات نے مجھے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں مدد دی۔ اب میں انگریزی پڑھاتی ہوں۔ کاش مجھے ان کا شکریہ ادا کرنے کا موقع ملتا۔"

سخت اساتذہ طلباء کو صرف کلاس روم میں ہی اعلیٰ معیار پر نہیں لاتے، کچھ اپنے طلباء کو اس سے باہر نکل کر بھی سکھاتے ہیں۔ ایک طالبہ اپنے استاد کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں ، "انھوں نے ہمیشہ ہماری سوچ کے افق کو وسیع کیا۔وہ اپنے انگریزیکے طلباء کو سخت مواد دیتے اور ہمیں اس چھوٹے سے شہر سے باہر دیکھنے پر مجبور کرتے تھے۔ انہوں نے ہمارے اندر یقین پیدا کیا کہ ہم ہمیشہپہلے سے بہتر کام کرسکتے ہیں۔وہ ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ وہ ہماری عزت کرتے تھے ، لیکن اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے ہمارے لیے چیلنج بھی پیدا کرتے تھے۔"

5۔زندگی بدلنے والے اساتذہ اپنے طلباء پر اعتماد کرتے ہیں اور انھیں خود پر یقین کرنا سکھاتے ہیں

ہم میں سے بیشتر کو کبھی نہ کبھی اپنی صلاحیتوں پر شک ہوا ہو گا ، لیکن بہت سارے طالب علم اس خیال کے زیر اثر زندگی میں کچھ کر ہی نہیں پاتے۔ زندگی بدلنے والے اساتذہ بچوں میں وہ صلاحیتیں دیکھ لیتے ہیں جو دوسرے نہیں دیکھ پاتے۔وہ بچوں کو اپنی صلاحیتیں ڈھونڈنے میں مسلسل ان کی مدد کرتےہیں۔

ہائی اسکول کی ایک طالبہ نےلکھا: "انہوں نے مجھےبتایا کہ میں سمارٹ ہوں، مجھے صرف اپنے آپ پر یقین کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی میں پڑھ ہی رہی تھی کہ ان کا انتقال ہو گیا۔میں ایسے پھوٹ پھوٹ کر روئی جیسے وہ میرے خاندان کے فرد ہوں۔ انھوں نے واقعی میری زندگی بدل دی۔"

ایک اور طالبہ کے مطابق ان کی ٹیچر نے نہ صرف ایک طالب علم کی حیثیت سے ان کا اعتماد بڑھایا ، بلکہ آج تک وہ ان کی تدریس پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے،"وہ یقین دلاتی تھیں کہ میں بہت بڑے کام کر سکتی ہوں ، اور مجھے یقین آیابھی ۔ لیکن اب بھی میرا خیال ہے کہ میں اپنے طلباء کے لیے اس سے آدھی مؤثر بھی نہیں جتنی وہ میرے لیے تھیں۔"

مددگارلوگ ہمیشہ استاد نہیں ہوتے۔ اچھے مشیر اور کوچ بھی یہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ ان کے کوچ کے رویے سے تقریباًبیس سال بعد بھیانہیں تحریک مل رہی ہے، کیوں کہ انہوں نے ٹیم ورک ، محنت اور حوصلہ افزائی کا ماحول بنایا۔ یہ ماحول ایک ایسےبچے کے لیے عمر بھر مدد دیتا رہا ، جسےزندگی میں اپنے صحیح مقام کی تلاش تھی۔"

6۔زندگی بدلنے والے اساتذہ اپنے طلباء سے پیار کرتے ہیں

"پیار" کا لفظ جواب دینے والوں نے سب سے زیادہ ستعمال کیا؛ چھوٹی چھوٹی لیکن معنی خیزباتوں سے محبت کا اظہار ۔زندگی کو تبدیل کرنے والے اساتذہ کی شاید یہ سب سے بڑی خوبی ہے۔

ایک طالبہ نے بتایا کہ جب وہ بیمار تھیں ، تو ان کی چوتھی جماعت کی ٹیچرکتابوں کا ایک سیٹ لے کر حوصلہ افزائی کے لئے ان کے گھر پہنچیں۔انہیں یہ بات اڑتیس سال گزرنے کے بعد بھی یاد ہے۔ (اگر گھر جانا مشکل ہے تو فون کال بھی کی جا سکتی ہے۔)

ایک اور طالبہ نے اپنی دوسری جماعت کی ٹیچر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ،" وہ اپنےسحر انگیز جذبے کے ذریعے اپنے طالب علموں سےمحبت کا اظہار کرتی تھیں۔ وہ واقعی ہم سب بچوں سے پیار کرتی تھیں۔ کبھی وہ ڈائناسور کا اور کبھی کسی مقدس مقام کے زائر کا روپ دھار لیتیں۔اس طرح انھوں نے اپنی تدریس کو ہم سب کے لیے دلچسپ اور مزے دار بنایا۔ "

کبھی کبھی طلباء استاد کی زبان سے اپنا صحیح نام سن کر بھی ان کی محبت کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ایک طالبہ کا کہنا ہے کہ عام طور پر ٹیچر اس کا نا م صحیح سے نہیں لیتے تھے۔ یہی بات اسے گیارھویں جماعت میں جانے کے پہلے دن بھی خوفزدہ کررہی تھی ، لیکن نئی ٹیچر نے جب اس کا نام بالکل ٹھیک سے لیا تو وہ حیران رہ گئی۔ وہ یوں بات کر رہی تھیں جیسے سارے ہی طالب علم ان کے لیے بہت اہم ہوں۔ بس اسی بات سے وہ ہمارے دلوں پر چھا گئیں۔

سچی با ت تو یہ ہے کہ کسی بچے کے دل تک پہنچنے کا سب سے سیدھا اور اثر انگیز طریقہ اس کے جذبات کو محسوس کرنے ، صبرسے کام لینے ، مناسب مواقع پر سختی سے کام لینے اور اس کے ساتھ احسان کا رویہ اختیا کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور جب طلباء کو زندگی بدلنے والے ایسے اساتذہ مل جائیں تو ان کو ساری زندگیاس کا فائدہ ہوتا رہتا ہے۔ بہت سے طلباءبعد میں پیشہ تدریس ہی سے وابستہ ہو جاتے ہیں،جیسا کہ اس سروے کا جواب دینے والے 145 افراد استاد بن چکے تھے۔